Joint Pain & Arthritis

Bones Filled

Bones Filled

Bones Filled

According to the United Nations Institute of Health, osteorocusos (full of bones), after heart disease, is the world’s most respected disease, i.e. the second largest human health problem. Flexibility is reduced and it gets two or four times the problems like stuffing and soft drinks.

Due to the weakening of bones, the risk of disrupting them increases. Hood is a living tissue, which constantly maintains and its old parts are ending .Hide the age of 30 to 40 years of age, Whereas, after which bones grow, the bones begin to arise. The question is, which cells are which make bones and breaks.
Let’s tell you that cells called Osteo Clast, break the bones, replace the old cells in new cells. This procedure is known as Osteo Blast in the medical language. The balance between the bone breaks and the process of becoming bones remains uncomfortable. After the age-old, not exercising, lack of balanced food and menstrual closure in women, breakdown of bones increases.
Osteo Clusters, breaking the bones of bone in a fever or dormant disease, are rapidly developing the ozone process, which consists of cells attached to bones. Bones Filled
Destroying their work. The illustration is that the bone breakdown process becomes slow and slow due to the slowdown of bones. This process results in bones becoming thinner and more vulnerable. And then it gets worse than stress.

According to experts, this disease is found in women more than men. It causes disease after 45 years of age, while men have osteoporosis in 50 years. The disease is more than 40% in women compared to patients. .If Pakistan talked, according to unauthorized data, 97 percent of 75 75 years in Pakistan, 55% of 45 to 54 years of women suffer from osteoporosis.
This disease affects whole body bones, but it has more effect on spinal, knee, knee and wrist. The strength of the ladies is also associated with the Sunshine Memorial. This is why the disease of Pakistan There are more cities in the cities than in rural areas. People living in cities here, who do not have to go to the sun, do not drink milk and do not eat fish, they become a bone problem.
In comparison to that, women living in rural areas work in the fields, have low rates of osteoporosis.
In other words, let’s say as much as we have adopted the modern Life Style, for example, not to sleep in the sunshine, in the sun, and to take proper nutrients in the fear of obesity, the result of these factors comes in the form of Torosaurus Is.

According to medical experts, some other causes of osteorocuscence include increased age, presence of pre-existing disease in the family, habit of not taking part in physical activity, using excessive caffeine, calcium deficiency, thyroid necklace problem, And use of stereo aids, etc.. Specialists also call it a ‘silent illness’, because the breeding process of the bones continues to slow down without feeling of pain.
It is possible that after the osteoporosis, patients began to feel pain or in pain. These people may have the disease, if they fall due to some reason, they fall in their hands or toes, during the fall and down. Symptoms of this disease usually appear late. In its earliest symptoms, the patient also feels pain in joining joints of joint pain.
Experts suggest that, if people with this disease, want to avoid medicines, take a bath at just twenty minutes daily (spend in the sunshine). If only twenty minutes are done, then our body’s daily vitamin D The need is fulfilled. It is very important to collect calcium in vitamin bones. In our skin, this vitamin is already available, which enhances the sunlight body and begins to reach calcium to the bones.
In addition, foods and especially women should get calcium from food. It can be obtained from milk and other items made by it, green vegetables and fish. In addition, daily necessity of phosphorus, protein, and salt Using more than the cause of osteorocusosis, it is because more protein and phosphorus-nutrients are considered due to the increase of calcium emission through the urine. RFA-ion sugar also increases the deficiency of calcium in the body.  Bones Filled

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق ،آسٹیو پوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن )، دل کے امراض کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پایاجانے والا عارضہ ،یعنی انسانی صحت سے متعلق دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔اس مرض میں ہڈیوں کی لچک میں کمی آجا تی ہے اور وہ بھر بھرے پن اور نرم پڑجانے جیسے مسائل سے دو چار ہو جاتی ہیں ۔

ہڈیوں کے کمزور ہوجانے کے باعث ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ہڈی ایک زندہ ٹِشو ہے ،جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہے اور اس کے پُرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں ۔ہڈی 30سے 40برس کی عمر کے دوران اپنی بھر پور حالت میں ہوتی ہے ،جبکہ اس کے بعد جوں جوں بڑھتی ہے ،ہڈیاں گھلنا شروع ہو جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ،کون سے ایسے خلیے ہیں جو ہڈیوں کو بناتے اور توڑتے ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیے ،ہڈیوں کو توڑتے ہیں ،ان ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں پُرانے خلیے کی جگہ نئے خلیے بنتے ہیں ۔اس عمل کو طب کی زبان میں اوسٹیو بلاسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس طرح ہمارے جسم کے اندر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور بننے کے عمل میں توازن قائم رہتا ہے ۔ڈھلتی عمر،ورزش نہ کرنے ،متوازن خوراک کی کمی اور خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد ،ہڈیوں کے ٹوٹنے کاعمل تیز ہو جاتا ہے ۔ہڈیوں کے بھربھرے پن یا خستہ ہونے کی بیماری میں ہڈیوں کو توڑنے والے خلیے یعنی اوسٹیو کلاسٹ اپنا کام تیز کرکے اوسٹیو بلاسٹ ،جو ہڈیوں کے جوڑنے کے خلیے ہیں۔

ان کے کام کو ضائع کردیتے ہیں ۔مطلب یہ کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز اور بننے کا عمل سسُت ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا آغاز ہوتا ہے ۔اس عمل کے نتیجے میں ہڈیاں زیادہ پتلی اور زیادہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ذراسا دباؤ پڑنے سے بھی ٹوٹ Bones Filled جاتی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق ،مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے ۔عورتوں میں 45برس کی عمر کے بعد یہ مرض پیدا ہوتا ہے جبکہ مردوں میں 50برس میں آسٹیو پوروسس ہوتا ہے ۔مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض 40فیصد زیادہ ہوتا ہے ۔اگر پاکستان کی بات کریں تو ،غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ،پاکستان میں 75سے 84برس کی 97فیصد ،جبکہ 45سے 54برس کی 55فیصد خواتین آسٹیو پوروسس کا شکار ہیں ۔یہ بیماری یوں تو پورے جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے ،لیکن ریڑھ ،گھٹنے ،کولہے اور کلائی پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے ۔ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق سورج کی روشنی یادھوپ سے بھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ مرض پاکستان کے دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں پایا جاتاہے ۔عموما ہمارے یہاں شہروں میں رہنے والے لوگ جن کا دھوپ میں نکلنا نہیں ہوتا ،دودھ نہیں پیتے اور مچھلی نہیں کھاتے،ان لوگوں کو ہڈیوں کا مسئلہ ہو جاتا ہے ۔اس کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں ،ان میں آسٹیو پوروسس کی شرح کم ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہم نے جتنا جدید لائف اسٹائل اختیار کیا ہے ،مثلا اےئر کنڈ یشز میں سونا، دھوپ میں نہ نکلنا اور موٹاپے Bones Filled کے ڈر سے مناسب غذانہ لینا،ان تما م عوامل کا نتیجہ آسٹیو پوروسس کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق ،آسٹیو پوروسس کی بعض دیگر وجوہات میں بڑھتی عمر ،خاندان میں پہلے سے اس بیماری کا موجود ہونا،جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی عادت ،بہت زیادہ کیفین کا استعمال ،کیلشیم کی کمی،تھائرائڈ ہار مونز کا مسئلہ ،اور اسٹیر ائڈز کا استعمال وغیرہ شامل ہیں ۔اکثر ماہرین اسے ایک ’خاموش بیماری ‘کا نام بھی دیتے ہیں ،کیونکہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر سسُت روی سے جاری رہتا ہے ۔یہ ممکن ہے کہ ،آسٹیوپوروسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔جن لوگوں کو یہ مرض ہو،اگر وہ کسی وجہ سے گر جائیں ،تو گرنے اوراُٹھنے کے دوران ،ان کے ہاتھوں یا پیر کی ہڈی میں فریکچر ہو جاتا ہے ۔اس بیماری کی علامات عموماََ دیر سے ظاہر ہوتی ہیں ۔اس کی ابتدائی علامات میں، مریض کو جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ اُٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ،اگر اس مرض میں مبتلا افراد ،دواؤں سے بچنا چاہتے ہیں تو صرف بیس منٹ روزانہ سن باتھ لیں (سورج کی دھوپ میں گزاریں )۔اگر صرف بیس منٹ بھی ایسا کیاجائے تو ہمارے جسم کی روزانہ کی وٹامن ڈی تھری کی ضرورت پوری ہو جا تی ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں میں کیلشیم کو جمع کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ہماری جلد میں یہ وٹامن پہلے سے موجود ہوتا ہے ،جو سورج کی روشنی جسم پر پڑنے سے متحرک ہوجاتا اور ہڈیوں تک کیلشیم کو پہنچا نا شروع کر دیتا ہے ۔اس کے علاوہ ،غذا کے ذریعے مردوں اور خصوصاََ خواتین کو کیلشیم ضرور حاصل کرنا چاہیے ۔یہ دودھ او ر اس سے بنی دیگر اشیاء ،ہری سبزیوں اور مچھلی سے حاصل ہو سکتا ہے ۔اس کے برعکس ،فاسفورس ،پروٹین اور نمک کا روزانہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا آسٹیو پوروسس کی وجہ بنتا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں ،پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں ۔ریفا ئنڈ شوگر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے ۔

source-UrduPoint.

Tags

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email
Share
Close
Close